Islamic Concept of Knowledge islam in various perspectives(Complete code of life) (Dark ages) ( ) (Real Diagnosis) (N. G. O) (Multi Dimensional)
یہ کتاب ان قارئین کیلئے ایک نایاب تحفہ ہے جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتِ طیبہ کا بے مثال تحریری مرقع دیکھنے کے تمنائی ہیں۔ اس کتاب میں اس مبارک ہستی کے سراپا قد وقامت اور شکل وصورت کے حسین تذکرہ پر سیر حاصل مواد موجود ہے۔ یہ لفظی مرقع ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کی مستند اور ثقہ روایات کے ذریعے پہنچا ہے۔ یہ کتاب ذات مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق حبی میں مزید اضافہ کا باعث ہوگی۔
تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے بغیر اطاعت الٰہی کی ہر تعبیر بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے
اِقتصادیات کا شعبہ بڑا وسیع ہے۔ یہ زندگی کے تمام گوشوں کا اِحاطہ کیے ہوئے ہے۔ علمی لحاظ سے بے شمار لوگوں نے اِس کی نوعیت، وسعت اور تنفیذی پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی غرض سے قلم اٹھایا لیکن اُس راہ کی نشان دہی نہ کرسکے جو اپنے اندر اُصول و ضوابط اور قابلِ عمل نظریات رکھتی ہو اور اِنسان کے معاشی تعطل اور اِستحصال دور کرنے کی صلاحیت سے آراستہ ہو۔ اِس ضمن میں اِقتصادیات کے ’’باوا آدم‘‘ Adam Smith سے لے کر عصرِ حاضر کے ماہرینِ معاشیات نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن وہ اس نظریہ اور نظام کو پیش کرنے سے قاصر رہے جو اِنسانیت کو ذہنی سکون پہنچائے اور اس کے اِقتصادی مسائل کا قلع قمع کرے۔
باب 1: بنیادی تصور
تحریک منہاج القرآن کے سات اہداف میں سے پہلے دو اہداف "تعلق باﷲ اور ربط رسالت" پر مشتمل کتاب هِدَايَةُ الْأُمَة عَلٰی مِنْهَاجِ الْقُرْآن وَالسُنَة کی ساڑھے گیارہ سو صفحات پر مشتمل پہلی جلد چھپ چکی ہے۔ بقیہ پانچ اَہداف --- رجوع الی القرآن، فروغ علم و شعور، اخوت و اتحاد امت، التزام جماعت اور اقامت دین --- پر مشتمل دوسری جلد ان شاء اﷲ عنقریب منظر عام پر آجائے گی۔ اِس کتاب کی ہر فصل میں احادیث کے ساتھ ساتھ نفس مضمون سے متعلقہ آیات قرآنی، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور صوفیاء و محدثین کے آثار و اَقوال بھی مع اردو ترجمہ و تحقیق درج کیے گئے ہیں۔
رسول الله ﷺ بچوں، عورتوں اور کمزور و نادار اَفراد کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آتے تھے۔
🔹 بعد از وضو دو رکعت نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان
Ahsana’s-Subul fi Manaqib al-Anbiya’ wa’r-Rusul (Virtues of the Prophets and Messengers)
عید عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’بار بار لوٹ کر آنے والا دن‘ ہے۔ چونکہ خوشی و مسرت کے یہ مواقع ہر سال آتے ہیں اس لئے انہیں عید کہا جاتا ہے۔ لفظِ عید قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا میں استعمال ہوا ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے مطالبہ پر بارگاہِ ایزدی میں درخواست کی تھی: ’’اے اللہ
فلسفہء اجتماعیت کی عملی تفسیر
عید الاضحی کا معنیٰ قربانی کی عید ہے اس دن مسلمان اپنے رب کی خوشنودی کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں۔ یہ دن دراصل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کے واقعہ کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن جانوروں کی قربانی کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ لوگوں میں ایثار و قربانی کی روح زندہ رہے۔ جانور کی قربانی کے وقت زبان سے دہرائے جانے والے یہ الفاظ بھی اس کی روح کے ترجمان ہیں:
🔹باب چہاردہم : سورہ فاتحہ سے اجزائے ایمان پر استدلال